Technology Transfer through Cyber Extension -- Helping Farmers to Help Themselves
گندم

بارانی علاقوں میں اگر بارش ہو جائے تو پانی کو محفوظ کرنے کے لیے گہرا ہل چلائیں تاکہ بوقت کاشت وتر مہیا ہو سکے۔

زمین کی تیاری شروع کریں۔اگر گلی سٹری کھاد ابھی تک نہ ڈالی ہو تو فوراً ڈالیں اور زمین میں اچھی طرح ملا دیں۔بیج اور کھاد کا انتظام کریں۔

پنجاب کے تمام بارانی علاقوں کے لیے محکمہ زراعت کی منظورشدہ گندم کی اقسام این اے ار سی 2009، بارس2009 اوردھرابی2011- کو 20اکتوبر سے 15نومبر تک۔چکوال 50کو 15اکتوبر تا 15نومبرتک کاشت کریں۔

پنجاب کے آبپاش علاقوں کے لیے سحر 2006،شفق 2006، فرید2006، پاسبان 90، معراج 2008-، لاثانی 2008-، فیصل آباد 2008-، آس2011-، ملت2011، پنجاب 2011،آری 2011 اور این اے آرسی 2011- کے بیج کا انتظام کریں۔

گندم کی بوائی کیلئے بیج کومحکمہ زراعت کے مہیا کردہ سیڈ گریڈر کے ذریعہ مفت صاف کروا کر استعمال کریں۔

پنجاب کے آبپاش علاقوں میں گندم کی کاشت یکم نومبر سے شروع ہو گی۔لہٰذا بروقت کاشت کے لیے زمین کی اچھی تیاری کریں۔ وریال زمینوں میں چارپانچ دفعہ وقفہ وقفہ سے ہل چلائیں۔ اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جاتی ہیں اور فصل کو غذائی اجزاء قابل حصول حالت میں مل جاتے ہیں۔آخری تیاری کی لیے ہلکی زمین میں ایک بار ہل اور سہاگہ دینا کافی ہوتا ہے جبکہ بھاری میرا زمین میں دوبار ہل او رسہاگہ دیں۔

جڑی بوٹیوں کے مؤثرتدارک کے لیے داب کا طریقہ اپنائیں۔

بروقت کاشت کے لیے شرح بیج 50کلو گرام فی ایکٹر رکھیں۔بیماری اور جڑی بوٹی کے بیج سے پاک، صاف ستھرا اور صحت مند بیج کا ہی انتخاب کریں۔بیج کی اُگاؤ کی شرح 85فیصد سے ہرگز کم نہیں ہونی چاہیے بصورت دیگر شرح بیج میں مناسب اضافہ کرلینا چاہیے۔

کاشت سے پہلے بیج کو محکمہ زراعت کے عملہ کے مشورہ سے پھپھوندی کش زہر ضرورلگائیں تاکہ فصل بیماری سے محفوظ رہے۔

نوٹ: سحر2006- بیماری سے متاثر ہ ہے۔اس لیے کم سے کم رقبہ پر کاشت کریں۔

چنا

چنے کی بروقت کاشت کریں۔ مختلف علاقوں کے لیے چنے کا وقت کاشت مختلف ہے۔ مثلاً اٹک اور چکوال کے لیے 25ستمبر تا 15اکتوبر۔گجرات، نارووال،جہلم اور راولپنڈی کے لیے 15اکتوبرتا10نومبر تھل کے علاقے بھکر ، خوشاب، میانوالی ، لیہ اور جھنگ کے لیے ماہ اکتوبر ، آبپاش علاقوں فیصل آباد، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر اور وسطی وجنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع کے لیے آخراکتوبر تا15نومبر جبکہ زیادہ زرخیز اور ستمبر کاشتہ کماد میں چنے کا وقت کاشت 20اکتوبر تا10نومبر ہے۔

چنے کی کاشت ہمیشہ ڈرل یا پور سے کریں تاکہ بیج مناسب وتر میں گرے اور بیج کی روئیدگی اچھی ہو۔ ہلکی میراا ورریتلی زمینوں میں قطاروں کا فاصلہ ایک فٹ جبکہ بھاری میرا و زیادہ بارش والے علاقوں میں فاصلہ ڈیڑھ فٹ ہو ۔ شرح بیج 30تا35کلوگرام فی ایکڑ ڈالیں۔ پودوں کا درمیانی فاصلہ 6انچ ہو۔

ایک ایکڑ میں 85سے 95ہزار پودے ہونے چاہئیں ۔ بیج کی گریڈنگ کر کے موٹے دانے کاشت کریں ۔ فصل کو بیماریوں سے محفوظ کرنے کے لیے سرایت پذیر زہر زرعی توسیعی عملہ کے مشورہ سے کاشت سے پہلے بیج کو ضرور لگائیں۔

ستمبر کاشتہ کماد میں چنے کی مخلوط کاشت بڑی کامیاب رہی ہے۔ساڑھے چار فٹ کے فاصلہ پر کاشتہ کماد میں بیڈپر چنے کی دولائنیں جبکہ دو تا اڑھائی فٹ کے فاصلہ پر کاشتہ کماد میں چنے کی ایک لائن کاشت کریں۔

آبپاش علاقوں میں ڈی اے پی ڈیڑھ بوری یا یوریا آدھی بوری+ٹی ایس پی ڈیڑھ بوری یا نائٹروفاس ایک بوری +ٹی ایس پی ایک بوری یا یوریا آدھی بوری+ایس ایس پی چار بوری جبکہ بارانی علاقوں میں ڈی اے پی ایک بوری فی ایکٹر استعمال کریں۔

اچھی پیداوار کے حصول کے لیے دیسی چنے کی اقسام بلکسر2000-، پنجاب2008-، ونہار2000-،بٹل98-، سی ایم98-، تھل 2006 اور بھکر 2011جبکہ کابلی چنے کی اقسام سی ایم2008-، نور91-، نور 2009-اورنور2013-کاشت کریں۔

مسور

مسور کی کاشت جاری رکھیں۔ شرح بیج 10تا12کلوگرام فی ایکٹر رکھیں۔

محکمہ زراعت کی سفارش کردہ اقسام مسور93، نیاب مسور 2002، نیاب مسور 2006 ، پنجاب مسور 2009 ، مرکز 2009 اور چکول مسورکاشت کریں۔

ایک بوری ڈی اے پی یا ایک بوری ٹرپل سپر فاسفیٹ اور 189بوری یوریا فی ایکٹر ڈالیں۔

کینولا

کاشتکار زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کینولا یعنی میٹھی سرسوں کاشت کریں اگر علیحدہ رقبہ میسر نہ ہو تو ستمبر کاشتہ کماد ، چنے، گندم اور برسیم وغیرہ میں کامیابی سے اس کی مخلوط کاشت کی جا سکتی ہے۔

بیج کے حصول اور کاشتی امور کی راہنمائی کے لیے محکمہ توسیع زراعت اور پی او ڈی بی کے عملہ سے رجوع کریں۔

کینولا کی کاشت کا بہترین وقت 20ستمبر تا 31اکتوبر ہے۔منظورشدہ اقسام پنجاب سرسوں، فیصل کینولا، پی اے آر سی کینولا ہائبرڈ کاشت کریں۔

شرح بیج آبپاش علاقوں کے لیے ڈیڑھ تا دو کلوگرام جبکہ بارانی علاقوں میں دوتا اڑھائی کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔

فصل کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بیج کو سرایت پذیر پھپھوندی کش زہر لگا نا بہت ضروری ہے۔

تیلدار اجناس کا بیج (NARC) اسلام آباد، پنجاب سیڈ کارپوریشن، مختلف زرعی تحقیقاتی اداروں، شعبہ روغندار اجناس (AARI)فیصل آباد، روغندار اجناس ریسرچ اسٹیشن خانپور، ریجنل زرعی تحقیقاتی ادارہ (RARI)،بہاولپور ، بارانی زرعی تحقیقاتی  دارہ (BARI)،

چکوال اور پرائیویٹ سیڈکمپنیوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کپاس

کپاس کی چنائی 10:00بجے کے بعدشروع کریں۔جب اوس مکمل طور پر ختم ہو جائے۔

چنائی اس وقت کریں جب 50فیصد سے زائد ٹینڈے کھل چکے ہوں۔ آدھ کھلے ٹینڈوں سے کپاس نہ چنیں۔

صاف کپاس حاصل کرنے کے لیے چنائی والی عورتیں سر پر سوتی کپڑا لیں۔ بالوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر چنائی کریں۔

چنائی کے لیے سوتی کپڑے استعمال کریں۔

چنائی پودے کے نچلے حصے سے شروع کریں اور بتدریج اوپر کو چنائی کرتے جائیں تاکہ نیچے کے کھلے ہوئے ٹینڈے اوپر کے ٹینڈوں کی پتیوں سے آلودہ نہ ہوں۔

پھٹی کو گیلی اور سایہ دار جگہ پر نہ رکھیں بلکہ دھوپ میں خشک جگہ پر سوتی کپڑا یا ترپال بچھا کر اس پر رکھیں۔

پھٹی کو سوتی بوروں میں بھریں ۔پٹ سن یا پولی پراپلین کے بورے ہرگز استعمال نہ کریں۔ فیکٹر ی تک پھٹی لے جانے والی ٹرالیوں کو کپڑے سے اچھی طرح ڈھانپ لیں۔

دھان

کٹائی اورپھنڈائی کا عمل جاری رکھیں۔کوشش کریں کہ جتنے رقبہ سے فصل کاٹی جائے اس کی پھنڈائی اسی دن مکمل کرلیں۔

موسمی حالات سے باخبر رہیں اگر بارش کا امکان ہو تو کٹائی اور پھنڈائی موخر کر دیں۔

خالی کھیتوں میں ہل چلا کر وہاں کے مُڈھ تلف کریں۔

کماد

ا-15-تا 22دن کے وقفہ سے آبپاشی جاری رکھیں۔

جوفصل کٹائی اور کرشنگ کے لیے تیار ہے اس کو پانی لگانا بند کردیں۔

چارہ جات

برسیم کی کاشت جاری رکھیں۔ شرح بیج 8کلوگرام فی ایکٹر رکھیں۔ شام کے وقت کاشت کرنے سے برسیم کی فصل کا اگاؤ اچھا ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک بوری ڈی اے پی+ ڈیڑھ بوری ایس ایس پی 18% بوقت کاشت ڈالیں۔

لوسرن کی کاشت شروع کریں۔ اس کا وقت کاشت 15اکتوبر سے 15نومبر تک ہے۔ شرح بیج5-4کلو گرام فی ایکٹر رکھیں۔ ڈیڑھ بوری ڈی اے پی فی ایکٹر ڈالیں۔تاکہ متواتر اچھی پیداوار حاصل ہوتی رہے۔

برسیم اور لوسرن کے بیج کو بوائی سے پہلے جراثیمی ٹیکہ لگائیں۔

جئی کی کاشت کے لیے شرح بیج 32کلوگرام فی ایکٹر ہے۔ ڈیڑھ بوری ڈی اے پی + ایک بوری یوریااور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکٹر استعمال کریں۔ ایس2000، پی ڈی 2 ایل وی65اور سرگودھا جئی 2011اچھی پیداوار دینے والی اقسام ہیں۔

سبزیات

آلوآلو کی کاشت کا بہترین وقت یکم اکتوبر سے آخراکتوبر تک ہے۔

آلو کی تازہ پیداوار بطور بیج نئی کاشت کے لیے موزوں نہیں ہوتی ۔ کاشت سے پہلے خوابیدگی کو توڑنا ضروری ہوتا ہے۔ آلو 10تا12ہفتے پڑا رہنے سے خوابیدگی خودبخود ختم ہو جاتی ہے۔

بیماری سے پاک تصدیق شدہ بیج کا استعمال کریں۔

کاشت سے کم از کم 10دن پہلے بیج کو سردخانے سے نکال لیں اور سایہ دار جگہ پررکھیں تاکہ بیج باہر کے عام درجہ حرارت سے اپنے آپ کو مانوس کر لے اور اس میں شگوفے پھوٹ آئیں۔

موسم خزاں کی فصل کے لیے شرح تخم 1200تا1500کلوگرام فی ایکٹر استعمال کریں۔

کیمیائی کھادوں میں ڈی اے پی 2188بوری+یوریا1189بوری+پوٹاشیم سلفیٹ 2بوری+زنک سلفیٹ21فیصد 10کلو گرام یا نائٹروفاس 5بوری +پوٹاشیم سلفیٹ2بوری+زنک سلفیٹ21فیصد 10کلوگرام فی ایکٹر ڈالیں۔

آلو کی بہترین اقسام ڈیزائری، کارڈینل،ڈایامینٹ، فیصل آباد سفید، فیصل آباد سرخ اور ایس ایچ 5- کا تصدیق شدہ بیج استعمال کریں۔

لہسن

اکتوبر کا پہلا پندرھواڑہ لہسن کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ منظور شدہ اقسام لہسن گلابی اور جی ایس 1-ہیں۔

تیارشدہ زمین کو پانچ پانچ مرلے کی کیاریوں میں تقسیم کرلیں۔ہر کیاری کا ہموار ہونا ضروری ہے۔

پوتھیوں کو ہموار زمین پر لائنوں

میں کاشت کریں۔

پوتھی کو زمین میں دو تین سینٹی میٹر گہرادبا دیا جائے۔ اس کی جڑوں والا حصہ زمین میں رہنا چاہیے اور اوپر والا نوکدار حصہ باہر نظر آئے۔ پودے سے پودے کا فاصلہ چار انچ اور لائنوں کافاصلہ آٹھ تا دس انچ ہونا چاہیے۔

بیج کے لیے160کلوگرام بڑے سائز کی پوتھیاں فی ایکٹر استعمال کریں۔

20تا25ٹن فی ایکٹرگوبر کی کھاد ایک ماہ پہلے ڈال دی گئی ہو تو اچھی پیداوار ممکن ہے۔کیمیائی کھادوں میں یوریا 2 بوری، ڈی اے پی1 بوری اور پوٹاشیم سلفیٹ 2بوری فی ایکٹر ڈالیں۔ فاسفورس ، پوٹاش اور نصف نائٹروجنی کھاد کی مقدار بوائی کے وقت جبکہ نصف نائٹروجنی کھاد نومبر اور دسمبر کے درمیان پندرہ دن کے وقفہ پر ڈال کر آبپاشی کریں۔

ٹنل ٹیکنالوجی

موسم گرما کی اگیتی سبزیاں اگانے کے لیے محکمہ زراعت کی سفارش کردہ ٹنل ٹیکنالوجی کی عملی تربیت حاصل کریں۔اس مقصد کے لیے محکمہ زراعت(توسیع) یا فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے عملہ سے رابطہ کریں اور سبزیوں کی اگیتی اور زیادہ پیداوار لے کر اپنی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کریں۔

اس وقت ٹنل میں کھیرا اورگھیا کدو کی براہ راست کاشت بالترتیب 25اکتوبر تا 25نومبر اور 15اکتوبرتا31اکتوبر کی جا سکتی ہے۔

ٹماٹراور شملہ مرچ کی نرسری کا وقت کاشت یکم اکتوبر تا31اکتوبر اور سبز مرچ کی نرسری کا وقت کاشت 15اکتوبر تا10نومبر ہے۔

باغات

آم کے باغات کی شاخ تراشی مکمل کریں۔ باغات میں جڑی بوٹی مار زہروں کا سپرے کریں۔ پودوں کے تنوں پر بورڈو پیسٹ لگائیں۔

نئے پودے لگائیں۔پیوند کاری کا عمل جاری رکھیں۔

ترشاوہ باغات میں ہل چلائیں۔ تنوں پر نکلنے والے شگوفوں کا معائنہ کریں اور کاٹیں۔

ترشاوہ باغات میں حسب ضرورت آبپاشی کریں۔

ulture Recommendations, زرعی سفارشات