Technology Transfer through Cyber Extension -- Helping Farmers to Help Themselves

تاریخ: 19اگست 2013

 

ماہ اگست کے پہلے پندرہ دنوں میں صوبہ پنجاب کے بعض اضلاع میں مون سون کی شدید بارشوں اور دریاوں و نہروں میں طغیانی کی وجہ سے فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے اور اگست کے آخری پندرہ دنوں کے دوران صوبے کے زیادہ تر حصوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔ ان حالات میں فصلات وباغات کو بارشوں کے نقصانات سے بچانے اور بھرپور پیداوار لینے کے لئے انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے ۔

 

بارش کا پانی کھیت میں اگر 24 گھنٹے سے زیادہ دیر تک کھڑا رہے تو فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے حتیٰ کہ 48 گھنٹے پانی کھڑا رہے تو پودے مرجھانا شروع کردیتے ہیں۔فصل کو زیادہ پانی کے نقصان سے بچانے کے لئے کھیت میں کھڑا پانی کسی خالی نچلے کھیت میں نکال دینا چاہیے۔ اگر قریب کماد کی فصل ہو اور اس میں پانی ڈالا جا سکتا ہو تو اس کھیت میں پانی ڈال دیں۔ اگر پانی کھیت سے باہر نہ نکالا جا سکتا ہو تو کھیت کے ایک طرف لمبائی کے رخ کھائی کھود کر پانی اس میں جمع کردیں۔زیادہ پانی کی وجہ سے پودوں کی جڑیں کام کرنا بند کردیتی ہیں اس لیے اگر فصل پیلی ہوجائے تو پانی نکالنے کے بعد جب زمین وتر آجائے توفصل کے قد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر یوریا کا 2 فیصد محلول بنا کر سپرے کریں تاکہ پودوں کی نشوونما دوبارہ شروع ہوجائے۔ وقفے وقفے سے متواتر بارش پودوں کی غیر ثمر دار بڑھوتری میں اضافہ کرتی ہے۔ ایسی صورت میں فصل کی بڑھوتری کو مناسب رکھنے والے مرکب یعنی میپی کواٹ کلورائیڈ100ملی لیٹر فی ایکڑ کا ہفتہ کے وقفہ سے تین مرتبہ سپرے کریں۔

 

 

 

کپاس کی فصل میں بارش سے جڑی بوٹیوں کی بھر مار ہوجاتی ہے نتیجتاً نقصان رساں کیڑوں کی تعداد بھی بہت تیزی سے بڑھتی ہے۔ بارشوں سے پیدا ہونے والی نمی کی وجہ سے رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاً سبز تیلے کا حملہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی پودے پر لشکری سنڈی کے انڈے یا چھوٹی سنڈیاں نظر آئیں تو اُن کو ہاتھوں کی مدد سے چن کر تلف کریں ۔ اگر حملہ قدرے بڑی ٹکڑیوں میں ہو تو کھیت کے ان حصوں کی نشاندہی کرکے مناسب کیڑے مار زہر کے سپرے سے تلف کریں۔ دھان کی فصل میں زیادہ پانی تنے کو کمزور اور فصل کے گرنے کا سبب بنتا ہے ۔ پھپھوندی اور جھلساؤ کی مختلف بیماریوں کا حملہ بڑھ جاتا ہے ۔اسی طرح کھیتوں میں موجود باقی فصلات بشمول سبزیات زیادہ نمی اور بارش میں کیڑوں اور پھپھوندی والی بیماریوں سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں لہٰذا ضرورت پڑنے پر دھوپ اور صاف دن میں زرعی ماہرین کے مشورہ سے کسی کاپر والی پھپھوندی کش زہر کا سپرے کریں۔

 

 

 

آم اور ترشاوہ باغات کے پودوں کے دور میں اگر بارش کا پانی چوبیس گھنٹے سے زیادہ وقت کیلئے کھڑا ہو جائے تو جڑوں میں ہوا کا گز ر نہیں ہوتا یہ گل سڑ جاتی ہیں اور مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر باغات تیزی سے انحطاط پذیری کی طرف مائل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔اگر بارش کے ساتھ تیز آندھی آجائے توکمزور شاخیں ٹوٹنا شروع ہوجاتی ہیں۔ پودوں کی شاخیں اگر زمین کے ساتھ ملی ہوئی ہوں اور بارش زیادہ ہونے کی صورت میں پانی دور میں کھڑا ہو جائے تو پودے کی گیلی شاخیں چند دن بعد سوکھنا شروع ہو جاتی ہیں۔اگر کوئی زخم یا چھلکا اترا ہوا ہو تو پھپھوند ی والی بیماری وہاں تک پہنچ جاتی ہے اور اُس زخمی حصہ سے گوند نکلنا شروع ہوجاتی ہے۔زیادہ بارش ہوجانے کی صورت میں اگر پانی کھیت /باغ سے تیزی کے ساتھ Run offہونا شروع ہو جائے تو یہ زمین کی ساخت کو بھی متاثر کرتا ہے اور پودوں کی جڑوں کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے جڑیں زمین سے خوراک لینے کے قابل نہیں رہتیں اور پودا نتیجتاً کمزور ہو جاتا ہے ۔پودے کی کمزور ٹوٹی ہوئی شاخوں کو تیز کٹر کے ذریعے کاٹ کر باغ سے باہر پھینک دیں اور کٹ شدہ حصے پر بورڈو پیسٹ (چونا، نیلا تھوتھا، پانی)لگائیں ۔ اگر تیز آندھی سے پودا گر جائے تو گرا ہو اپودا وہاں سے نکال باہر کیا جائے اور اگر ٹیڑھا ہو جائے تو اُسے خشک لکڑی سے سہارا دیا جائے اور اُ س کے گرد مٹی بھی چڑھا دی جائے ۔ باغ کو مزید پانی لگانے سے گریز کیا جائے تاوقتیکہ بارش کا کھڑا پانی خشک ہو جائے۔وتر آنے پر مصنوعی کھادوں کا استعمال کیا جائے اور ہلکی گوڈی کے بعد معمولی سی آبپاشی کی جائے تاکہ پودا اپنی صحت کو بحال کر سکے۔ گرے ہوئے پھل کو فوری طور پر اٹھا کر باغ سے باہر پھینک دیا جائے تاکہ پھل کے گلنے سٹرنے کی نوبت نہ آئے کیونکہ گلا سڑا پھل کیڑوں اوربیماریوں کی افزائش کا باعث بنتا ہے۔تمام پود وں کو اچھی طرح پھپھوند ی کش دوائی کا سپرے بھی ضرور کریں۔ پیسٹ لگانے کیلئے مذکورہ ادویات مثلاً مینکو زیب ، کاپر آکسی کلو رائیڈ وغیرہ بہترین پھپھوندی کش ادویات ہیں ۔

 

 

پیسٹ بنانے کیلئے کسی بھی مذکورہ ادویات کا ایک کلو گرام 20لیٹر پانی میں حل کر کے استعمال کریں ۔ایسے پودوں کے تنے جن سے گوند نکلنا شروع ہو جائے اُن پودوں کے متاثرہ حصوں کو پہلے چاقو کی مدد سے زخم کو صاف کر لیں۔ پھر وہاں لال دوائی (پوٹاشیم پر میگنٹ ) کا محلول بحساب دوائی 5گرام ایک لیٹر پانی میں ملا کر برش کی مدد سے زخم پر لگائیں زخم خشک ہونے پر پھپھوند کش دوائی کا پیسٹ لگادیں۔اگر پانی کے بہاؤ (Run off)کی وجہ سے پودے کے نیچے سے بالخصوص تنوں کے قریب سے مٹی بہہ جائے تو انہیں فوری طور پر مٹی سے پُر کر دیں تاکہ پودوں کی نشو و نما بہتر طریقے سے دوبارہ شروع ہو سکے۔وہ ترشاوہ باغات جو زیادہ بارشوں کے پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے مکمل تباہ ہوگئے ہوں وہاں پانی خشک ہونے پر پودوں کو نکال لیا جائے اور اُن کی جگہ نئے پودے لگائے جائیں ۔ پودے لگانے کا بہتر ین موسم ستمبر ، اکتوبر اور فروری ، مارچ ہے۔ بارشوں کے بعد پودوں پر نکلنے والی نئی پھوٹ پر لیف مائنر کا حملہ ہوتا ہے جو بعد میں جاکر سٹرس کینکر کا سبب بنتا ہے۔ جن پودوں پر لیف مائنر اور دیگر کیڑوں کا حملہ ہو اُن پر محکمہ کی سفارش کردہ کسی بھی زہر کا سپرے کریں ۔ جبکہ سٹرس کینکر سے متاثرہ پودوں کے خلاف کاپر آکسی کلور ائیڈ یا کسی پھپھوند کش دوائی کا سپرے بحساب 2.5گرام فی لیٹر کرائیں۔

 

 

(زرعی فیچرسروس، نظامت زرعی اطلاعات پنجاب ZaraiMedia)