Technology Transfer through Cyber Extension -- Helping Farmers to Help Themselves

 پیداواری ٹیکنالوجی کپاس


کپاس دنیا کی اہم ترین ریشہ دار فصل ہے۔ اس سے لباس اور کپڑے کی دوسری مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ اس کے بنولے کا تیل بناسپتی گھی کی تیاری کے لئے بطور خام مال استعمال ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔ پنجاب کو اس لحاظ سے خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ مجموعی پیداوار کا تقریباً 80فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔

کپاس کی اچھی پیداوار کے لئے ایسی زرخیز میرا زمین بہتر رہتی ہے جو کہ تیاری کے بعد بھربھری اور دانے دار ہو جائے جس میں نامیاتی مادہ کی مقدار بہتر ہو، پانی زیادہ جذب کرنے اور دیر تک وتر قائم رکھنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔ زمین کی نچلی سطح سخت نہ ہو تاکہ پودوں کی جڑوں کو نیچے اور اطراف میں پھیلنے میں دشواری نہ آئے۔ اس لئے زمین کی تیاری کے لئے گہرا ہل چلائیں اور زمین کی ہمواری بذریعہ لیزر لینڈ لیولرکریں تاکہ پودے کی جڑیں آسانی سے گہرائی تک جا سکیں اور وتر دیر تک قائم رہے۔ پچھلی فصلات کی باقیات روٹاویٹر، ڈسک ہیرو یا مٹی پلٹنے والے ہل کی مدد سے زمین میں اچھی طرح مکس کر دی جائے تاکہ بوائی کے بعد زمین ہموار اور کاشتی امور بہتر انداز میں سرانجام دیئے جا سکیں۔ زمین کی تیاری کرتے وقت کھیت کی ہمواری کا خاص خیال رکھیں۔

کاشت کے لئے بی ٹی اقسام کا انتخاب صرف محکمہ زراعت حکومت پنجاب کی طرف سے منظورشدہ اقسام میں سے کریں۔بی ٹی اقسام کے ساتھ کم ازکم 10سے 20فیصدرقبہ نان بی ٹی اقسام کا بھی کاشت کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوت مدافعت پیدا نہ ہوسکے۔

کپاس کی کھیلیوں پر کاشت کے لئے 6تا 10کلوگرام بُر اترا ہوا بیج فی ایکڑجبکہ ڈرل سے کاشت کے لئے 8تا 12کلوگرام بُر اترا ہوا بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔ بوائی سے پہلے بیج کو مناسب کیڑے مار زہرلگانا بہت ضروری ہے جس سے فصل ابتداء میں تقریباًایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں خاص طور پر سفید مکھی سے محفوظ رہتی ہے جو کہ پتہ مروڑ وائرس کی بیماری پھیلانے کا سبب بنتی ہے۔ڈرل سے کاشتہ فصل میں چھدرائی پہلی آبپاشی سے پہلے مکمل کریں اور پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں فصل کا قد 5سے 6انچ تک ہونے پر چھدرائی مکمل کر لیں تاکہ فصل تندرست اور توانا ہو ۔ چھدرائی کرتے وقت کمزور اور بیمار پودوں کو نکال دیں۔ اگیتی کاشتہ فصل (مارچ)میں پودے سے پودے کا فاصلہ 12تا 15انچ ، درمیانی کاشت (اپریل)میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9تا12انچ جبکہ پچھیتی کاشت (یکم مئی تا15مئی) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 6سے 9انچ رکھیں اور کھیلیوں کا درمیانی فاصلہ اڑھائی فٹ رکھیں تاکہ فی ایکڑ پودوں کی تعداد مناسب رہے۔

کپاس کی لائنوں میں کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا 35دن بعد جبکہ اس کے بعد12تا 15دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں پہلا پانی بوائی کے 2تا 4دن بعد ، دوسرا پانی 6تا 9دن بعد اورپھر 15دن کے وقفے سے آبپاشی کریں۔کپاس کو آخری پانی 15اکتوبر تک لگائیں اور فصل کو پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر پانی ضرور دیں۔پانی کی کمی کی علامات جاننے کے لئے صبح 9تا 10بجے کھیت کے مختلف پودوں کا بغور مشاہدہ کریں اگر پتے کملائے ہوئے ہیں، تنے کے اوپری تین چوتھائی حصہ پر سرخی (لالی) آئی ہوئی ہے، چوٹی تڑخ کی آواز کرکے ٹوٹ جائے، پودے پر گانٹھ کا درمیانی فاصلہ کم ہو رہا ہے، پودوں کی چوٹی پر سفید پھول موجود ہوں۔ یہ علامات پانی کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔

کپاس کی اچھی پیداوار کے لئے کھادوں کا متناسب استعمال انتہائی ضروری ہے۔ کاشتکار کپاس کی اگیتی کاشت کے لیے درمیانی زرخیز زمین میں 161کلوگرام نائٹروجن، 46تا 70کلوگرام فاسفورس اور 50کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔ کپاس کی پچھیتی کاشت کے لیے 80کلوگرام نائٹروجن ،35تا 58کلوگرام فاسفورس اور 38کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔ فاسفورس ، پوٹاش کی تمام مقداربوائی کے وقت استعمال کی جائے۔ اگر فارسفورسی کھاد کے ساتھ200کلوگرام گوبر کی کھاد ملالیں تو بہت اچھی پیداوارحاصل ہو تی ہے۔ اگیتی کاشت کے لیے 1/6حصہ نائٹروجن بوائی کے وقت ، 1/6حصہ بوائی کے 30تا35دن بعد جبکہ باقی ماندہ نائٹروجنی کھادایک پانی چھوڑکر اگلے پانی پر ڈالنی چاہئے۔ مئی میں کاشتہ فصل کے لیے 1/4حصہ نا ئٹروجن بوائی کے وقت، 1/4حصہ بوائی کے 30تا35دن بعد،1/4حصہ ڈوڈیاں بننے پر اور بقیہ 1/4حصہ ٹینڈے بننے پر استعمال کریں۔

کاشتکار محکمہ زراعت کی سفارش کردہ روایتی اقسام مرکزی علاقوں میں یکم اپریل سے 31مئی تک جبکہ ثانوی و دیگر علاقوں میں یکم سے 15مئی تک کاشت مکمل کریں۔کاشت پٹڑیوں پر کریں اور ہموارزمین پر قطاروں میں کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی کے بعد پودوں کی ایک لائن چھوڑکر دوسری لائن میں مٹی چڑھاکر پٹڑیاں بنادیں۔

زرعی فیچرسروس، نظامت زرعی اطلاعات پنجاب