Technology Transfer through Cyber Extension -- Helping Farmers to Help Themselves

زرعی سفارشات

تاریخ: 20جنوری 2013 زرعی سفارشات
1فروری2013 تا 15فروری 2013ء

زرعی سفارشات

گندم:

۱ گندم کی اگیتی فصل کو دوسرا پانی 80تا 90دن بعد لگائیں اورپچھیتی کاشتہ فصل کودوسرا پانی 70تا80دن بعد گوبھ کے وقت جبکہ تیسرا پانی 110تا115دن بعددانے کی دودھیا حالت میں لگائیں جبکہ خشک موسم کی صورت میں ایک اضافی پانی دوسرے اور تیسرے پانی کے درمیان لگائیں۔

۲ ریتلی زمینوں میں نائٹروجن کھاد چار برابر قسطوں میں ڈالیں۔کیونکہ ایسی زمینوں میں نائٹروجن کھاد کے ضائع ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔

کماد:

۱ کماد کی اچھی پیداوار کے لیے اچھے نکاس والی میرااوربھاری میرا زمین نہایت موزوں ہے۔ اس کو مونجی کے وڈھ میں اور کپاس کے بعد بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔

۲ ان فصلات کی برداشت کے بعد روٹاویٹر یا ڈسک ہیرو چلا کر پچھلی فصل کی باقیات کوزمین میں ملا دیا جائے۔ اس کے بعد 8تا10انچ گہری کھیلیوں کے لیے دومرتبہ کراس چیزل ہل یا ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلائیں پھر تین چار مرتبہ عام ہل چلا کر زمین کو بھربھرا کر لیں۔

۳ گنے کی کاشت کھیلیوں میں کرنے کے لیے ہموار زمین کو گہراہل اور مناسب تیاری کے بعد سہاگہ دیں اور پھر رجر کے ذریعے 8تا10انچ گہری کھیلیاں 4فٹ کے فاصلہ پر بنائیں۔

۴ ہمیشہ صحت مند، بیماریوں اور کیڑوں سے پاک فصل سے بیج کا اتنخاب کریں ۔ بیج بناتے وقت بیمار اور کمزور گنے چھانٹ کر نکال لیں۔

۵ لیری(یکسالہ) فصل سے بیج منتخب کریں ۔مونڈھی فصل سے بیج نہ نکالیں۔

۶ سموں پر کھوری یا سبز پتوں کا غلاف نہیں ہوناچاہیے وگرنہ اگاؤ کم ہوتا ہے اور دیمک لگنے کا احتمال بھی بڑھ جاتاہے۔

۷ بیج کو پھپھوندکش زہروں کے محلول میں 3تا5منٹ تک بھگو کر کاشت کریں۔

۸ بروقت کاشت اور دیگر موزوں حالات میں فی ایکڑ چار آنکھوں والے 13تا15ہزار سمے یا تین آنکھوں والے 17تا 20ہزار سمے ڈالنے چاہئیں۔یہ تعدا د گنے کی موٹائی کے لحاظ سے تقریباً 100تا120من بیج سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

ترقی داداہ اقسام:

۱ اگیتی اقسام : سی پی 77-400، سی پی 43-33، سی پی ایف237، ایچ ایس ایف240، ایچ ایس ایف 242اور سی پی ایف243۔

۲ درمیانی اقسام : ایس پی ایف213، ایس پی ایف234،ایس پی ایف245، سی پی ایف246اورسی پی ایف247۔

نوٹ: ایس پی ایف234،صرف راجن پور ، بہاولپور اور رحیم یار خاں کے لیے موزوں ترین قسم ہے۔

۳ پچھیتی اقسام : سی او جے84۔

نوٹ: غیر منظورشدہ اور ممنوعہ اقسام بی ایف162-، ایس پی ایف238-، سی او1148-، ایل116-، ایل118-، بی ایل4-، سی اوایل44-، سی او ایل29-، سی اوایل54-اور ٹرائی ٹان ہرگز کاشت نہ کریں۔

۴ کماد کا وقت کاشت فروری کے پہلے ہفتہ سے مارچ کے وسط تک ہے۔

۵ کمزور زمین میں 3بوری ڈی اے پی، 2پوٹاشیم سلفیٹ، درمیانی زمین میں2ڈی اے پی ، 2 بوری پوٹاشیم سلفیٹ اورزرخیز زمین کے لیے 1بوری ڈی اے پی،1بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکٹر بوائی کے وقت ڈالیں۔

مکئی:

۱ بہاریہ مکئی کی کاشت تمام میدانی علاقوں میں 15جنوری سیفروری کے آخر تک جبکہ راولپنڈی ڈویژن (ماسوائے پہاڑی علاقے) آخر فروری تا 20مارچ تک مکمل کرلیں۔

۲ زیادہ پیداوا ر حاصل کرنے کے لیے ہائبرڈ اقسام کی کاشت کریں۔

۳ بہاریہ مکئی کی کاشت کے لیے قطاروں کا درمیانی فاصلہ سوا دو تااڑھائی فٹ رکھیں۔ڈرل سے کاشت کی صورت میں شرح بیج12سے15کلوگرام اور وٹوں پر شرح بیج8سے10کلوگرام فی ایکٹر رکھیں۔

۴ زیادہ بارش والے بارانی علاقوں میں زمین کی زرخیزی کے مطابق ڈی اے پی1189بوری +امونیم نائٹریٹ2189بوری، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ ،جبکہ کم بارش والے علاقوں میں 1بوری ڈی اے پی2+بوری امونیم نائٹریٹفی ایکٹر استعمال کریں اور ساری کھاد بوائی کے وقت ہی ڈال دیں۔

۵ آبپاش علاقوں میں درمیانی زمین میں2بوری ڈی اے پی ، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ ، جبکہ کمزور زمین میں اڑھائی بوری ڈی اے پی +ڈیڑھ بوری پوٹاشیم سلفیٹفی ایکڑ بوائی کے وقت استعمال کریں۔

سورج مکھی:

۱ ایسی زمین جس میں نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت ہو اور زیادہ ریتلی یا کلر اٹھی نہ ہو اس فصل کے لیے موزوں ہے۔

۲ زمین کو اچھی طرح ہموار کر لیں تاکہ آبپاشی میں آسانی ہو۔ ہموار زمین کو بوائی سے پہلے گہراہل چلا کر تیار کریں۔

۳ فصل کی بوائی کے لیے بیج کی قسم کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ قسم آپ کے علاقہ میں اچھی پیداوار دے سکتی ہے یا نہیں اس سلسلہ میں اپنے متعلقہ محکمہ زراعت کے عملہ سے اور پرائیویٹ بیج کمپنیوں کے ماہرین کی ہدایات کے مطابق قسم کا چناؤ کریں۔

۴ شمالی اور وسطی پنجاب میں سورج مکھی کا وقت کاشت یکم فروری تا آخر فروری ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں 15فروری تک کاشت کریں۔

۵ اچھے اگاؤ کا2189کلوگرام بیج فی ایکٹر کافی ہے اگر اگاؤ کی شرح کم ہوتو بیج کی مقدار اسی حساب سے بڑھا دیں۔

۶ فصل قطاروں میں کاشت کریں ۔ قطاروں کادرمیانی فاصلہ سوا دو فٹ سے اڑھائی فٹ رکھیں اور پودے سے پودے کا فاصلہ آبپاش علاقوں میں 6تا9انچ اور بارانی علاقوں میں ایک فٹ رکھیں۔

۷ اگرکھیلیوں پر کاشت کرنی ہو تو پہلے کھیلیوں میں پانی لگائیں اورجہاں تک پانی پہنچے وہاں سے تھوڑا سا اوپر بیج لگائیں۔

۸ پونی دو بوری ڈی اے پی اورایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکٹر بوقت کاشت ڈالیں۔

چارہ جات:

۱ برسیم اورلوسرن کی حسب ضرورت آبپاشی کریں ۔لوسرن کی فصل کو ہر کٹائی کے بعد ایک پانی ضرور لگائیں۔

۲ اچھی پیداوار لینے کے لیے برسیم اور لوسرن کی کٹائی کے بعدآدھی بوری یوریا فی ایکٹر بوقت آبپاشی ڈالیں۔

سبزیات:

۱ موسم گرما میں اُگائی جانے والی سبزیوں کریلہ، گھیا کدو، چپن کدو، کالی توری، بھنڈی توری، بینگن ، ٹماٹر، سبز مرچ، شملہ مرچ، تر اور کھیرا کی کاشت کا وقت فروری تا مارچ ہے۔موسم گرما کی سبزیاں 20سے 35درجہ سینٹی گریڈ کے دوران بہترین نشوونما دیتی ہیں۔ اس سے زیادہ یاکم درجہ حرارت پر پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

۲ سبزیوں کی کاشت کے لیے اچھی نکاس اورنامیاتی مادے والی زرخیز میرا زمین ہونی چاہیے ۔ سبزیوں کی کاشت سے ایک دو ماہ پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد بکھیر کر زمین میں ملا دیں تاکہ گوبر کی کھاد زمین کا حصہ بن جائے۔

۳ بیج ایسی اقسام کا منتخب کیا جائے جو کہ ہمارے موسمی حالات کے مطابق ہو ۔ کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتے ہوں اور بیج کی شرح اُگاؤ 80فیصد ے کم نہ ہو۔

۴ ٹماٹر اور مرچ کی کاشت بذریعہ پنیری کریں جب پنیری کی عمر 30تا35دن ہو جائے تو اس پنیری کو پٹٹریوں پر سفارش کردہ فاصلہ کے مطابق منتقل کر یں۔کریلہ ، گھیا کدو ،چپن کدو، گھیا توری، تر اورکھیرا کی کاشت پٹٹریوں کی ایک جانب کریں جبکہ بھنڈی توری کی کاشت پٹڑیوں کے دونوں جانب کریں۔

ٹنل ٹیکنالوجی:

۱ ٹنل کے اندر لگائی گئی سبزیوں کی آبپاشی اور کھاد کا استعمال جاری رکھیں۔

۲ سپرے کرنے اورکھاد ڈالنے کے بعد ٹنل کا منہ بند نہ کریں تاکہ گیس پیداہوکر نقصان نہ پہنچائے۔

۳ دن کے وقت تقریباً 9بجے صبح سے 4بجے شام تک ٹنل کے منہ کو دونوں طرف سے کھلارکھا جائے تاکہ ٹنل کے اندر زیادہ نمی پیدا نہ ہو جو کہ بیماریوں کا موجب بنتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو ٹنل میں ہواخارج کرنے والا پنکھا (Exhaust Fan)لگا دیں تاکہ بے جا نمی کو خارج کیا جا سکے اور درجہ حرارت مناسب رکھا جا سکے۔ کوشش کریں کہ ٹنل میں درجہ حرارت 15سے28درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رہے۔

۴ پودوں کی ترتیب ،کانٹ چھانٹ اور گوڈی وغیرہ کا خیال رکھیں۔

باغات:

ترشاوہ پھل:

۱ سوکھے تنوں اور غیر ضروری شاخوں کی کانٹ جاری رکھیں۔پنیری کی منتقلی کریں اور پیوند کاری کا عمل شروع کریں۔ مالٹے کی برداشت کریں اور کنو کی برداشت کے بعد باغات میں ہل چلائیں نئے پودے لگائیں۔ ناغے پر کریں گرے ہوئے بیمار پھل زمین میں دبا دیں۔

۲ جنوری میں فاسفورس اورپوٹاش کی کھادیں نہ ڈالنے کی صورت میں نائٹروجنی کھاد کی پہلی قسط کے ساتھ یہ بھی ڈال دیں۔کھاد ڈالنے کے بعد گوڈی کر کے آبپاشی کریں۔

۳ شاخ تراشی کے بعد اور پھول نکلنے سے پہلے بیماریوں اورکیڑوں کے خلاف پھپھوندی کش اور کیڑے مار زہروں کا سپرے کریں۔

آم:

۱ موسم سازگار ہوئے ہی کورے سے بچاؤ کے لیے لگا ئے گئے چھپر اتاردیں ۔ چھوٹے اورپھل نہ دینے والے درختوں کی شاخ تراشی کریں کھودے گئے گڑھے پُر کریں اور وسط فروری کے بعد پودے لگائیں۔

۲ نائٹروجن ، فاسفورس، پوٹاش اور جپسم کھاد ڈالیں۔کھاد ڈالنے کے بعد آبپاشی کریں۔

۳ کیڑوں خصوصاً تیلے، سکیل اور گدھیڑی کے حملہ کا جائزہ لیں اور زیادہ تعداد کی صورت میں سپرے کریں۔سفوفی پھپھوندی کی بیماری کا خاص طورپر جائزہ لیں۔30فیصد پھول آنے پر حفاظتی سپرے کریں۔

ڈاکٹر محمد انجم علی

ڈائریکٹر جنر ل زراعت

(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور

Copyright @ Zaraimedia.com